LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب: دس دن بعد سرنگ سے چینی شہری زندہ بازیاب

News Image
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور تودے گرنے کے واقعے کے دس دن بعد امدادی کارکنوں نے ایک سرنگ سے ایک چینی شہری کو زندہ نکال لیا۔ اس ہلاکت خیز آفت کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی طور پر اموات کی تعداد تیرہ سو پچھتر سے تجاوز کر گئی ہے۔
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے دس روز بعد ریسکیو ٹیموں نے ایک حیرت انگیز کارروائی کرتے ہوئے سرنگ میں دبے ایک چینی شہری کو زندہ نکال لیا ہے۔ نیپالی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کامیاب ریسکیو آپریشن راوسوا ضلع میں اپر تریشুলি ون ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سرنگ کے اندر دو سو پچیس میٹر کی گہرائی میں مشترکہ ٹیموں کی جانب سے انجام دیا گیا۔ بازیاب ہونے والے شخص کی شناخت لُو ہیٹاؤ کے نام سے کی گئی ہے جنہیں فوری طور پر طبی امداد اور صحت کا جائزہ لینے کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ شخص ان سیکڑوں ہائیڈرو پاور ورکرز میں شامل تھا جو گزشتہ ماہ کے آخر میں چین نیپال سرحد پر گلیشیر اور چٹانیں گرنے کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز بھی تریشুলি تھری اے سرنگ سے دو نیپالی ورکرز کو معجزانہ طور پر زندہ نکالا گیا تھا جنہیں نو دن تک سرنگ میں پھنسے رہنے کے بعد طبی امداد فراہم کی گئی۔ نیپال اور چین کے مختلف علاقوں میں آنے والی اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک تیرہ سو پچھتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں امدادی کارروائیاں پوری قوت سے جاری ہیں اور غیر ملکی ماہرین جن میں بھارت، چین، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے ماہرین شامل ہیں، سرنگوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں نیپالی فوج کا ساتھ دے رہے ہیں۔ قومی ڈزاسٹر ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق تباہی کے اس منظر نامے میں اب تک تیرہ سو سے زائد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ تقریباً پانچ ہزار افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ لاشوں کی کثیر تعداد اور سرد خانے بھر جانے کے باعث حکام نے ڈی این اے کے نمونے لے کر ایک ہزار سے زائد لاشوں کی اجتماعی تدفین بھی کی ہے۔ دریں اثنا، وزیراعظم بلیندرا شاہ نے عارضی خیمہ بستیوں اور کیمپوں میں رہنے والے بے گھر افراد کو محفوظ اور آرام دہ رہائش فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت متاثرین کے مستقبل کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔