LIVE
Loading Breaking News...

رूस यूकेन जंग: अमेरिकी नुमाइंदे मास्को और कीएव के दौरे पर

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر بات چیت کے لیے ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں فریقوں کے درمیان فضائی حملوں میں شدت آئی ہے اور سفارتی ڈیڈ لاک کو توڑنے کی نئی کوشش کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم امن منصوبے پر تبادلہ خیال کرنے کی غرض سے ماسکو پہنچ چکے ہیں۔ دونوں مذاکرات کاروں کو واشنگٹن کی جانب سے اس انتہائی مہلک تنازعے میں سفارتی جمود کو توڑنے کی تازہ ترین کوشش کے طور پر بھیجا گیا ہے۔ ماسکو میں اپنی بات چیت مکمل کرنے کے بعد، ان کا اگست میں کیب کا رخ کرنے کا امکان ہے جہاں وہ یوکرین کی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روس نے اس دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے تحت کیب کے دو ہوائی اڈوں اور دنیپرو کے علاقے میں ایک شہری ہدف پر رات بھر حملے کیے جن میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یوکرین کی طرف سے سفارت کاری کے راستے میں کوئی رکاوٹ یا خطرہ پیدا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس امن کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور داماد جیرڈ کشنر جنگ زدہ کیب کا دورہ کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس دورے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کے نامزد کردہ دو بہترین مذاکرات کار یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا امن کی سمت میں کوئی پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس تنازعے کے حل کے لیے ایک جامع منصوبہ ساتھ لے کر گئے ہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس منصوبے میں یوکرین کی جانب سے علاقے سے دستبرداری کا کوئی نکتہ شامل ہے یا نہیں۔ اس سے قبل روس اور یوکرین کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا جس کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یوکرین کی فضائی حدود سنہ 2022 سے بند ہے جس کی وجہ سے اس دورے کے لیے فضائی سفر کے حوالے سے بھی خصوصی انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت سے خطے میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے تاہم زمینی حقائق تاحال کشیدہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی کمی کو دور کرنا اور کسی قابل عمل جنگ بندی تک پہنچنا ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہوگا لیکن امریکی ثالثی کی یہ کوشش خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔