LIVE
Loading Breaking News...

بولیویا فوجی چھاؤنی دھماکے: دو ہلاک، اکیاسی زخمی

News Image
بولیویا میں ایک فوجی چھاؤنی میں ہونے والے دو شدید دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور اکیاسی زخمی ہو گئے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق دھماکہ خیز مواد اور آتش بازی کا سامان چھاؤنی میں ذخیرہ کیا گیا تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
بولیویا کے دارالحکومت لاپاز کے قریب واقع ایک فوجی چھاؤنی میں جمعہ کے روز دو شدید دھماکے ہوئے، جن کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور اکیاسی زخمی ہو گئے۔ حکام نے بتایا کہ یہ دھماکے ویچا کے علاقے میں واقع فوجی بیس پر دوپہر کے وقت ہوئے، جہاں بڑی مقدار میں آتش بازی کا مواد اور بلیک پاؤڈر ذخیرہ کیا گیا تھا۔ وزیر دفاع ارنستو جسٹینیانو نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ دھماکوں کے بعد فضا میں کالے دھوئیں کے گہرے بادل چھا گئے اور ارد گرد کے رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، چھتیں گر گئیں اور ملبہ سڑکوں پر پھیل گیا۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں دو فوجی جوان ہلاک جبکہ سات لاپتہ ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے فورا بعد فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کے رہائشیوں کو عقبی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا۔ دھماکوں کی وجہ سے علاقے کی بجلی بھی منقطع ہو گئی اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے دو تسلسل کے ساتھ ہوئے، پہلا دھماکہ آتش بازی کے مواد کے ذخیرے میں ہوا جس کے بعد ایک اور بہت بڑا دھماکہ ریکارڈ کیا گیا جس کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بیس پر کسی قسم کے عسکری ہتھیاروں کا دھماکہ نہیں ہوا۔ بولیویا کے صدر نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف اور تکنیکی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حفاظتی پروٹوکولز کی پاسداری کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حادثے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ ویچا کی مقامی انتظامیہ نے واقعے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت کی اولین ترجیح زخمیوں کا علاج اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنا ہے۔