LIVE
Loading Breaking News...

سئیٹل ٹائمز اور نیوز ڈے کا اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ پر کاپی رائٹ مقدمہ

News Image
امریکہ کے مؤقر اخبارات سئیٹل ٹائمز اور نیوز ڈے نے بغیر اجازت اے آئی سسٹمز کی تربیت کے لیے صحافتی مواد استعمال کرنے پر اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ پر مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ دونوں اخبارات نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مواد اور اسے استعمال کرنے والے ماڈلز کو تلف کیا جائے۔
امریکہ کے دو معروف اور مؤقر اخبارات 'سئیٹل ٹائمز' اور 'نیوز ڈے' نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑی کمپنیوں اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں کاپی رائٹ کی سنگین خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق دونوں ٹیک کمپنیوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اخبارات کی اجازت کے بغیر ان کی صحافتی مواد کو ڈیجیٹل طور پر کاپی کیا اور اسے اپنے اے آئی سسٹمز کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ اس قانونی چارہ جوئی سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں خبر رساں اداروں اور اے آئی ڈیولپرز کے درمیان کشمکش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے اخبارات کی ویب سائٹس سے مواد چرایا، یہاں تک کہ پے وال کے پیچھے موجود مواد کو بھی حاصل کیا گیا تاکہ چیٹ جی پی ٹی، مائیکروسافٹ کو پائلٹ اور بنگ کی اے آئی خصوصیات کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان اخبارات کا مؤقف ہے کہ ان مصنوعات کی وجہ سے صارفین کو خبریں براہ راست پڑھنے کے لیے ان کی ویب سائٹس پر آنے یا سبسکرپشن خریدنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، جس سے ان کے مالیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ سئیٹل ٹائمز کے صدر اور سی ای او ایلن فِسکو نے اپنے ملازمین کے نام ایک خط میں واضح کیا کہ وہ اپنے مواد کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں جس کی تیاری پر سالانہ لاکھوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب اوپن اے آئی کے ترجمان نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے ماڈلز کی تربیت عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر کی جاتی ہے اور یہ منصفانہ استعمال کے زمرے میں آتا ہے، تاہم انہوں نے اس مخصوص مقدمے پر کھل کر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ادھر مائیکروسافٹ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقامی صحافت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور اس قسم کے تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کرنے کو ہمیشہ تیار ہیں۔ اخبارات کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ کمپنیوں کو حکم دیں کہ ان کے کام کی تمام نقلیں اور وہ تربیتی ڈیٹا سیٹس یا اے آئی ماڈلز جن میں یہ مواد شامل ہے، انہیں فوری طور پر تلف کیا جائے۔ واضح رہے کہ یہ مقدمہ 2023 میں نیویارک ٹائمز کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کی بازگشت ہے، اور اس وقت امریکہ بھر میں کاپی رائٹ ہولڈرز کی جانب سے ٹیک کمپنیوں کے خلاف ایسے درجنوں مقدمات زیر سماعت ہیں جو مبینہ طور پر اے آئی ٹریننگ کے لیے مواد کے غیر قانونی استعمال پر لائے گئے ہیں۔