LIVE
Loading Breaking News...

بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا، بچوں کی اموات ایک ہزار کے قریب

News Image
بنگلہ دیش میں خسرہ کی ہلاکت خیز وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کے باعث اب تک نو سو چوراسی بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسپتالوں کے وارڈز بیمار بچوں سے بھر گئے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم جاری ہے۔
بنگلہ دیش میں کئی دہائیوں کی بدترین خسرہ کی وبا کے باعث بچوں کی اموات کا ہندسہ ایک ہزار کے قریب پہنچ گیا ہے، جس نے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ کے شیشو اسپتال کے وارڈز میں بیمار بچوں کے رونے کی آوازیں اور آکسیجن مشینوں کی آوازیں گونج رہی ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کی زندگی کے لیے پریشان بیٹھے ہیں۔ وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے اب تک کم از کم 986 بچے اس مہلک بیماری کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ اسّی ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ خسرہ ایک انتہائی تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے جو کھانسی اور چھینکوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے اور اس کا کوئی خاص علاج موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمر بچے اس کا نشانہ بننے میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں اور پیچیدگیوں کی وجہ سے دماغ کی سوزش اور سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سات کروڑ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں وبا پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ماس ویکسینیشن مہم شروع کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود روزانہ ایک ہزار سے زائد نئے مشتبہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ اسپتالوں میں لائے جانے والے بیشتر بچوں کی حالت پہلے ہی انتہائی نازک ہوتی ہے اور غذائی قلت ان کی اس وائرس کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں سیاسی عدم استحکام اور حکومت کی تبدیلی کے باعث طے شدہ حفاظتی ٹیکوں کی مہمات میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے لاکھوں بچوں کو وقت پر ویکسین نہیں مل سکی۔ اس دوران وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے صحت ایس ایم ضیاء الدین حیدر نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طبی عملہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔ دریں اثنا، ماہرینِ وبائی امراض نے زور دیا ہے کہ بیماری پر قابو پانے کے لیے مزید وسیع تر اقدامات، متاثرہ بچوں کی آئسولیشن اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے تاکہ مزید معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔