LIVE
Loading Breaking News...

محسن نقوی کا نظام کی تشکیلِ نو اور نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور نظام کی تشکیلِ نو پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو الگ صوبہ بنایا جانا چاہیے اور نئی انتظامی تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں ہونی چاہئے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں اور 'سسٹم ری سیٹ' کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، جس سے عام آدمی کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس عمل میں عوامی رائے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ انتظامی امور کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے محسن نقوی نے کھل کر اس بات کی تائید کی کہ اسلام آباد کو ایک الگ صوبہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کو الگ انتظامی حیثیت دینے سے یہاں کے مسائل کے حل میں تیزی آئے گی اور وفاقی سطح پر گورننس کے نظام میں نمایاں بہتری دیکھی جا سکے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں کسی بھی قسم کی نئی انتظامی تقسیم لسانی یا نسلی بنیادوں پر ہرگز نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد محض اور محض انتظامی بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی کو تیز کرنا ہونا چاہئے۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ انتظامی امور میں اصلاحات لائے بغیر ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانا مشکل ہو گا۔ موجودہ نظام میں پیچیدگیوں کی وجہ سے عوام کو جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، ان کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مقصد صرف اور صرف گورننس کو نچلی سطح تک مؤثر بنانا اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ہے تاکہ ہر شہری اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکے۔ تقریب کے اختتام پر وزیر داخلہ نے ملک کے مجموعی حالات اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ فریقین سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر سیاسی اور انتظامی سطح پر سنجیدہ فیصلے کیے جائیں، تو ملک میں ایک بہترین اور عوام دوست نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، جو مستقبل میں پائیدار ترقی کی ضمانت بنے گا۔