Politics
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام: خواجہ آصف کا پیپلز پارٹی پر تنقیدی وار
وفاقی وزیر کی طرف سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دوہرے معیار پر سخت تنقید کرتے ہوئے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی سطح پر ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ بیانات میں حکومت کے اہم حلقوں اور وزراء کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کو بہتر طریقے سے چلانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر کی جانب سے اس بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا گیا اور اسے منافقانہ اور دوغلی پالیسی قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تقسیم اور نئے یونٹس کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو ذاتی یا خاندانی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ دوسری طرف، حکومت کے دیگر وزراء اور منصوبہ بندی کے ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ترقی کے ثمرات کو عام آدمی تک پہنچانے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی مشکلات کے پیش نظر یہ مطالبات کیے جا رہے ہیں کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے نئے یونٹس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ موضوع آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس حساس معاملے پر الگ الگ مؤقف رکھتی ہیں۔ عوامی سطح پر بھی اس بحث کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے اور عوام کا یہی مطالبہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں یکساں ترقی اور گورننس کی بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا ہو سکے۔