LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا ایران کے تین آئل ٹینکرز پر حملہ، کشیدگی میں اضافہ

News Image
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ کے بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد جوابی کارروائی کی گئی ہے۔ اس کارروائی میں ایران کے تین 'شیڈو نیٹ ورک' سے تعلق رکھنے والے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب امریکی فوج نے ایران کے تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ فضائی یا بحری حملے اس وقت کیے گئے جب خلیجی یا سمندری حدود میں امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر میزائل داغے گئے تھے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ جوابی کارروائی اپنے دفاع اور امریکی فوجیوں کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نشانہ بنائے جانے والے یہ آئل ٹینکرز مبینہ طور پر ایک 'شیڈو نیٹ ورک' کا حصہ تھے جو ایرانی تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ اس تازہ ترین کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کے امور پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے بھی خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور خطے میں اپنے فوجی اثاثوں کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، تہران کی طرف سے اس کارروائی پر شدید ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں ایک نئی فوجی محاذ آرائی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے اور سفارتی ذرائع سے معاملات کو حل کیا جا سکے۔