Business
پاور سیکٹر اصلاحات: سی ٹی بی سی ایم سے پہلے ڈسکو کی اصلاحات ناگزیر
توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اہم اجلاس میں ماہرین نے گرڈ اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بہتری پر زور دیا ہے۔ وفاقی سطح پر بجلی کے صارفین کے لیے بہتر نتائج اور پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے تناظر میں ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسابقتی تجارتی بجلی مارکیٹ ماڈل یعنی سی ٹی بی سی ایم کے مکمل نفاذ سے قبل بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ڈسکو کی کارکردگی بہتر نہیں بنائی جاتی اور ان کے مالیاتی خسارے کو کم نہیں کیا جاتا، تب تک نئے مارکیٹ ماڈل کے فوائد عام صارفین تک نہیں پہنچ سکتے۔
حالیہ دنوں میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کیے گئے ہیں جن میں بجلی کے شعبے کی پائیداری، صارفین کے حقوق اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ان اجلاسوں میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ نجکاری اور مارکیٹ پر مبنی اصلاحات ملکی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہیں، جنہیں کامیاب بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔
حکومت کی جانب سے بھی اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ بجلی کے شعبے کو صارف دوست بنایا جائے تاکہ صارفین کو بلا تعطل اور سستی بجلی فراہم کی جا سکے۔ اس ضمن میں وفاقی سطح پر مختلف تجاویز زیر غور ہیں جن کا مقصد نظام کی خامیاں دور کرنا اور ترسیلی نقصانات میں کمی لانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈسکو کی انتظامی صلاحیت کو بہتر بنا دیا جائے تو نجی شعبے کی شمولیت کے ساتھ سی ٹی بی سی ایم کا نفاذ انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔