World
نائجل فاریج کا بی بی سی کو انٹرویو، غیر ملکی عطیہ دہندگان کے معاملے پر صفائی
ریفارم پارٹی کے رہنما نائجل فاریج نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خفیہ فلمائے گئے مذاکرات کے دوران توجہ نہیں دے رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا خاندان ان پر سیاست چھوڑنے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔
برطانیہ کی ریفارم پارٹی کے رہنما نائجل فاریج نے بی بی سی کی معروف صحافی لورا کوئنسبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ غیر ملکی عطیہ دہندگان کے ساتھ ہونے والی خفیہ فلم بند گفتگو کے دوران دھیان نہیں دے رہے تھے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سیاسی حلقوں میں اس خفیہ ویڈیو کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے اور مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
انٹرویو کے دوران نائجل فاریج نے اپنی سیاسی زندگی اور اس کے ذاتی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہیں اور وہ ان سے مسلسل یہ درخواست کر رہے ہیں کہ وہ اب اس سیاسی عہدے کو چھوڑ کر پرسکون زندگی گزاریں۔ ان کے مطابق، خاندان کی طرف سے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا دباؤ اب بہت بڑھ چکا ہے۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانوی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے مالی معاملات اور عطیات کے ذرائع پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نائجل فاریج کا یہ بیان ان کے ناقدین کے لیے مزید سوالات اٹھانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، جبکہ ان کی اپنی پارٹی کے اندر بھی اس صورتحال پر غور و فکر کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کو دیے گئے اس طویل انٹرویو میں نائجل فاریج نے ملکی سیاست کے مستقبل اور اپنی پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تمام تر دباؤ کے باوجود اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھیں گے، اگرچہ ان کے قریبی عزیز و اقارب ان کی حفاظت اور ذہنی سکون کی خاطر اس میدان سے باہر نکلنے کا مطالبہ مسلسل کر رہے ہیں۔