LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زرعی زمینوں کی تباہی اور آبادکاری

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں پرتشدد اسرائیلی آبادکاری کے پھیلاؤ کے دوران فلسطینی زرعی زمینوں کو بلڈوزر چلا کر اجاڑ دیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں اب خطے کے اہم زرعی علاقوں یعنی ایریا اے تک پھیل چکی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور پرتشدد یہودی آباد کاروں کی توسیع کی مہم نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں خطے کے اہم ترین زرعی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، فلسطینی کسانوں کی زرعی زمینوں پر بڑے پیمانے پر بلڈوزر چلا دیے گئے ہیں اور فصلوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، جس سے اس خطے کی غذائی خودمختاری اور معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ تباہی اب اس علاقے تک پھیل چکی ہے جسے اصطلاحاً خطے کی فوڈ باسکٹ کہا جاتا ہے اور جہاں کے باسی اپنی زرعی پیداوار پر انحصار کرتے ہیں۔مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت شدت اختیار کر گئی ہیں جب پرتشدد اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کی توسیع کا سلسلہ جارحانہ انداز میں جاری ہے۔ ایریا اے کے کچھ حصوں میں بھی اس قسم کی پرتشدد کارروائیوں اور زمینوں پر قبضے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے مقامی فلسطینی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف کسانوں کی روزی روٹی چھین لی ہے بلکہ علاقے میں خوراک کی فراہمی کے نظام کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ زرعی زمینوں کی یہ منظم تباہی فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ اگر اس انہی کارروائیوں کو روکا نہ گیا تو آنے والے دنوں میں مغربی کنارے کے اندر انسانی اور معاشی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس سے خطے کا امن اور استحکام مزید داؤ پر لگ جائے گا۔