World
امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کے ٹینکرز پر حملے، خطے میں کشیدگی میں اضافہ
امریکہ نے خلیج عمان اور ایران کے جزیرہ خارگ کے قریب ایرانی تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی خطے میں سرگرم ایرانی حامی عسکری تنظیموں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کی گئی ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی حالیہ کارروائیوں کے دوران خلیج عمان اور ایران کے اہم جزیرے خارگ کے قریب ایرانی تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فضائی یا بحری حملے اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد تہران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں سرگرم مختلف مسلح گروہوں اور اتحادی پراکسیز کو ملنے والی مالی امداد کو بند کرنا ہے۔ امریکہ کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ایران اپنی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کی پشت پناہی کے لیے استعمال کرتا ہے۔
دوسری جانب، ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں اور سمندری تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب اس طرح کی فوجی کارروائیوں سے دنیا بھر میں تیل کی رس رسد شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔
ابھی تک ایرانی حکومت یا اس کے عسکری اداروں کی جانب سے ان مبینہ حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، تاہم تہران کی طرف سے اس جارحیت پر شدید ردعمل کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایران کے سرکاریحرام حلقوں کی جانب سے ماضی میں بھی اس قسم کی امریکی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور خطے کے دیگر ممالک اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل نہ کیا گیا تو یہ محدود سمندری جھڑپیں ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگی۔