LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب: لاپتہ افراد کی لاشوں کے بغیر آخری رسومات کی ادائیگی

News Image
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی لاشیں نہ ملنے پر لواحقین نے بغیر لاشوں کے ہی ان کی آخری رسومات ادا کرنا شروع کر دی ہیں۔ سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد میں سے دس میں سے ایک سے بھی کم لاشوں کی باضابطہ شناخت ہو سکی ہے۔
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی دلخراش صورتحال میں لاپتہ افراد کے لواحقین شدید ذہنی کرب سے گزر رہے ہیں۔ صورتحال اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ سیلاب سے لاپتہ ہونے والے پیاروں کی لاشیں نہ ملنے یا ان کی شناخت نہ ہو سکنے کی وجہ سے اب خاندانوں نے بغیر لاشوں کے ہی ان کی آخری رسومات ادا کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ روایت نہ صرف لواحقین کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے بلکہ اس سے معاشرتی اور جذباتی سطح پر گہرے اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ حکام اور امدادی اداروں کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے دس میں سے ایک سے بھی کم لاشوں کی باضابطہ شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ناکافی ذرائع، طویل اور کٹھن علاقائی راستے اور انتظامی مشکلات اس عمل میں بڑی رکاوٹیں بنی ہوئی ہیں۔ کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود جب لاپتہ افراد کا کوئی سراغ نہیں ملتا تو اہل خانہ اپنے پیاروں کے دنیا سے رخصت ہونے کا یقین کرتے ہوئے روایتی مذہبی رسومات انجام دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف مقامی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں لاپتہ افراد کے ورثا کی مدد کے لیے کوشاں ہیں، لیکن تباہی کے پیمانے اتنے بڑے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور دُکھ کا مداوا کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ اس المناک صورتحال نے ایک بار پھر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات اور ریسکیو کے جدید نظام کی کمی کو اجاگر کر دیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سوگ کی فضا بدستور قائم ہے۔