LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ: ڈوور بندرگاہ پر تارکین وطن مخالف مظاہرہ اور حکومت کی مذمت

News Image
برطانیہ کی سب سے بڑی بین الاقوامی بندرگاہ ڈوور کے راستے پر نقاب پوش تارکین وطن مخالف مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں۔ برطانوی حکومت نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
برطانیہ کی سب سے بڑی بین الاقوامی بندرگاہ ڈوور میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب 'اسٹاپ دی بوٹس' کے نام سے سرگرم نقاب پوش تارکین وطن مخالف مظاہرین نے بندرگاہ کی طرف جانے والی اہم سڑکوں کو بلاک کرنے کی کوشش کی۔ اس اچانک احتجاج کے نتیجے میں برطانوی بندرگاہ کی طرف جانے والا ٹریفک کچھ دیر کے لیے معطل ہو گیا، جس سے مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی اور مظاہرین کو سڑکوں سے ہٹانے کے لیے کارروائی کی۔ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد برطانوی حکومت کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکومتی ترجمان نے واضح الفاظ میں اس احتجاج اور سڑکوں کی ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کے حق کا مطلب قانون کو ہاتھ میں لینا ہرگز نہیں۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف عام شہریوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ملک کی معیشت اور رسد کے نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں اور اہم بنیادی تنصیبات کی طرف جانے والے راستوں کو بند کرنے والے عناصر کی شناخت کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں تارکین وطن کا معاملہ پچھلے کچھ عرصے سے انتہائی حساس شکل اختیار کر چکا ہے اور سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام عوام میں بھی اس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ حکومت کی طرف سے اس تازہ واقعے کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور بین الاقوامی تجارت اور سفر بلا تعطل جاری رہ سکے۔