LIVE
Loading Breaking News...

غزہ سے جبری نقل مکانی کا کوئی منصوبہ نہیں، امریکی سفیر کا بیان

News Image
امریکہ کے سفیر نے واضح کیا ہے کہ غزہ کے باسیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی اسرائیل پر عائد کی ہے۔
امریکہ کے اسرائیل میں تعینات سفیر مائیک ہکابی نے واضح کیا ہے کہ غزہ کے جنگ سے متاثرہ باشندوں کو زبردستی ان کے گھروں سے نکالنے یا بے دخل کرنے کا کوئی بھی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بیان اس وقت دیا جب اسرائیلی کابینہ کے کچھ وزراء کی جانب سے غزہ کی آبادی کے انخلاء کے حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی تھیں۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ وہ قطعی طور پر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ کسی بھی فلسطینی کو اس کی مرضی کے خلاف غزہ سے باہر منتقل کرنے کا کوئی لائحہ عمل موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی فلسطینی اپنی مرضی سے باہر جانا چاہے تو اسے یہ حق حاصل ہونا چاہیے، لیکن جبری نقل مکانی کی حمایت نہ تو اسرائیل کرتا ہے اور نہ ہی امریکہ۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اور دیگر دائیں بازو کے وزراء کی جانب سے غزہ کے باسیوں کے انخلاء سے متعلق بیانات دیے گئے تھے، جن کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ جنیوا کنونشن کے تحت کسی بھی مقبوضہ علاقے کے شہریوں کی جبری نقل مکانی کو جنگی جرم قرار دیا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ جنگ اور تنازعات کے دوران غزہ کی کثیر آبادی پہلے ہی اندرونی طور پر بے گھر ہو چکی ہے، اور اس قسم کے بیانات خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وہ فلسطینیوں کو اپنی مرضی سے نقل مکانی کا اختیار دینے کی حامی ہے لیکن کسی کو زبردستی نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ غزہ کی صورتحال کے علاوہ امریکی سفیر نے مقبوضہ مغربی کنارے کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے فلسطینی نژاد امریکی شہریوں اور مقامی خاندانوں سے ملاقات کی۔ اس دورے کا مقصد مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے ہونے والے تشدد کے واقعات کا جائزہ لینا تھا۔ مائیک ہکابی نے اس موقع پر زور دیا کہ اسرائیلی حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مغربی کنارے میں بسنے والے تمام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ چند افراد کی غنڈہ گردی پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتی لیکن اس طرح کے جرائم پر قابو پانا امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ مقامی فلسطینی رہنماؤں نے امریکی سفیر کے سامنے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا اور بتایا کہ انہیں کس طرح مسلسل ہراسانی اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں نے اپیل کی کہ امریکہ خطے میں پائیدار امن اور شہریوں کی سلامتی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی سفیر کا یہ دورہ اور ان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سیاسی دباؤ اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور عالمی برادری کی نظریں خطے کے زمینی حقائق پر لگی ہوئی ہیں۔