LIVE
Loading Breaking News...

آئی بی سی سی کا غیر ملکی بورڈ طلباء کیلئے مساوات کے معیار میں نرمی کا فیصلہ

News Image
انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) کے مری میں منعقدہ 184 ویں اجلاس میں غیر ملکی تعلیمی بورڈز کے طلباء کے لیے سائنس گروپس کی مساوات کے معیار کو مزید آسان بنا دیا گیا ہے۔ اجلاس میں تعلیمی نظام میں بہتری اور نقل پر مبنی نظام کے خاتمے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد: انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) کے زیر اہتمام مری میں دو روزہ 184 واں آئی بی سی سی فورم اختتام پذیر ہو گیا ہے جس میں ملک کے تعلیمی اور امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد پاکستان کے امتحانی نظام کو رٹا سسٹم سے ہٹا کر تصوراتی تشخیص (conceptual assessment) کی طرف منتقل کرنا اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اجلاس میں ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایک اہم فیصلے میں آئی بی سی سی نے یہ طے کیا کہ ایسے غیر ملکی بورڈز کے طلباء جنھوں نے کم از کم دو سائنس مضامین پاس کیے ہوں، انھیں سائنس گروپ کی مساوات (equivalence) دی جائے گی تاکہ طلباء کے لیے تعلیمی راہیں مزید سازگار بنائی جا سکیں۔ اس کے علاوہ فورم نے 12 مزید دینی مدارس کو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی اسکول سرٹیفکیٹس کے ساتھ مساوات دینے کی سفارش کی ہے، جس سے اس فریم ورک کے تحت اداروں کی کل تعداد 26 ہو گئی ہے۔ اسکول اور کالج کے اسناد پر اب بے فارم اور شناختی کارڈ نمبرز بھی درج کیے جائیں گے تاکہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال آسان ہو سکے۔ امتحانی نظام میں شفافیت اور یکسانیت لانے کے لیے کئی اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔ سندھ کے تعلیمی بورڈز، وفاقی بورڈ (FBISE)، آزاد کشمیر بورڈ، گلگت بلتستان، آغا خان اور ضیا الدین بورڈز میں نئی گریڈنگ پالیسی کے نفاذ کا خیرمقدم کیا گیا ہے جس کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس کو بڑھا کر 40 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، ملک بھر میں تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے ایک متفقہ کیلنڈر تشکیل دینے اور عملی امتحانات کے لیے مشترکہ ہدایات بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ آئی بی سی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح اور نیشنل کوآرڈینیٹر عنایت اللہ وسیم نے تعلیمی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعظم کی ہدایات کے عین مطابق ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے میرٹ پر بورڈ چیئرمینز کی تعیناتی اور سندھ حکومت کی طرف سے ای-مارکنگ کے نفاذ کو سراہا۔ کمیشن نے پوزیشن ہولڈرز طلباء کے لیے اسکالرشپس، سممر اور ونٹر کیمپس کے انعقاد کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ طلباء کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔