Pakistan
کراچی ڈی ایچ اے اغوا اور تشدد کا معاملہ، دو ملزمان گرفتار
کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں ایک نوجوان کو مبینہ طور پر اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ ایک لڑکی کے تنازع کا نتیجہ تھا اور اس سلسلے میں مقدمہ درج کر کے دیگر مفرور ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں ایک نوجوان کو مبینہ طور پر اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے میں پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ساؤتھ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سید اسد رضا کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزمان کی شناخت ابراہیم فہد اور وقار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث ایک اور ملزمان ابراہیم ملک فرار ہو کر لاہور جا چکا ہے جبکہ چوتھا ملزم ارتضیٰ تاحال روپوش ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ سارا تنازع ایک لڑکی کے معاملے سے جڑا ہوا ہے۔
واقعے کا مقدمہ ساحل پولیس اسٹیشن میں ہفتے کے روز علی الصبح مدعی سید علی جعفری کی مدیت میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 29 اگست کی رات کو پیش آیا تھا۔ پولیس نے مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات بشمول دفعہ 34، 337-اے، 337-وی، 365 اور 506-بی شامل کی ہیں۔ مدعی مقدمہ سید علی جعفری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایف آئی آر درج کرانے میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ ملزمان کی جانب سے انہیں شدید جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور خوف کی وجہ سے وہ کچھ عرصہ خاموش رہے۔ تاہم جب ملزمان نے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی تو انہوں نے پولیس سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
ای ایف آئی آر میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق مدعی اور اس کا دوست بخاری کمرشل میں ایک ای گیمنگ فیسلیٹی پر گئے تھے جہاں ان کے دوست کا ایک اور جاننے والا بھی آ گیا جسے مدعی پہلے سے نہیں جانتا تھا۔ بعد ازاں تینوں قریب ہی ایک کیفے گئے اور جب وہاں سے باہر نکلے تو ایک گاڑی ان کے سامنے رکی۔ گاڑی سے نکلنے والے ایک شخص نے مبینہ طور پر بیس بال کے بیٹ سے علی جعفری کی گردن پر وار کیا اور پھر زبردستی گاڑی میں ڈال کر فیز 8 میں ساحل ایونیو کے ایک خالی پلاٹ پر لے گئے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے وہاں نوجوان کو بیس بال کے بیٹ سے تشدد کا نشانہ بنایا، اس کے بال کھینچے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے مبینہ طور پر پستول بھی دکھائی گئی۔
متاثرہ نوجوان کے مطابق ملزمان نے اس وحشیانہ تشدد کی ویڈیو بھی بنائی اور اس کے اہل خانہ کی تصاویر دکھا کر دھمکی دی کہ اگر پولیس میں رپورٹ کی گئی تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملزمان نے متاثرہ شخص سے تیس ہزار روپے بھی طلب کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار دونوں ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے دیگر ملزمان کو جلد حراست میں لے کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ ڈی ایچ اے جیسے پوش علاقے میں اس نوعیت کے پرتشدد واقعات پر شہریوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔