LIVE
Loading Breaking News...

گلگت بلتستان میں کوہ پیمائی اور ٹریکنگ قوانین میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ

News Image
گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے براڈ پیک کے دلخراش برفانی تودے کے حادثے کے بعد 1999 کے ٹریکنگ قوانین اور ضوابط کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی حادثات میں غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور بہتر حفاظتی پروٹوکول تجویز کرنے کے لیے پندرہ روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین نے براڈ پیک پر پیش آنے والے ہلاکت خیز برفانی تودے کے حادثے اور دیگر کوہ پیمائی کے دوران ہونے والے ناگہانی واقعات کے بعد 1999 کے ٹریکنگ رولز اینڈ ریگولیشنز کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ فیصلہ برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کی قیادت میں جانے والی مہم کے دوران براڈ پیک پر پیش آنے والے حادثے کے کچھ ہفتے بعد کیا گیا ہے، جہاں دس کوہ پیما برفانی تودے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس سال کوہ پیمائی کی سرگرمیوں کے دوران کل تیرہ غیر ملکی اور دو پاکستانی کوہ پیما اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں سپنتک چوٹی پر جاں بحق ہونے والی پاکستانی کوہ پیما اسماء مشتاق بھی شامل ہیں۔ تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی کے سربراہ جنگلات، وائلڈ لائف اور پارکس کے سیکرٹری سبطین احمد ہوں گے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکرٹری ضمیر عباس اور بلتستان ڈویژن کے کمشنر کمال خان اس کے ارکان میں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ حالیہ حادثات کے بعد ریسکیو آپریشنز میں تاخیر اور انتظامی غفلت کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کرے۔ اس کے علاوہ موجودہ قوانین کا ایک ایک شق کے تحت جائزہ لے کر پرانے اور غیر مؤثر ضوابط کی نشاندہی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے پرمٹس، رجسٹریشن، گائیڈز کی ذمہ داریوں، حفاظتی آلات، پورٹرز کی اجرتوں اور انشورنس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد ٹور آپریٹرز کی جانب سے کوہ پیمائی کے اصولوں کی خلاف ورزی اور بروقت انشورنس یا ریسکیو انتظامات نہ کرنے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔ جی بی ٹوتزم ڈیپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں دو ہزار دو سو سے زائد غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ٹریکرز نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا ہے، اور حکومت سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ تمام ملکی و غیر ملکی کوہ پیماؤں، گائیڈز اور پورٹرز کی جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہتی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام متعلقہ امور کا احاطہ کرتے ہوئے اپنی جامع رپورٹ اور سفارشات پندرہ دن کے اندر متعلقہ حکام کو پیش کرے۔