Pakistan
میجر جنرل فیصل ناصر کی بطور نیکٹا کوآرڈینیٹر تقرری اور اس کے اثرات
میجر جنرل فیصل ناصر کو تین سال کے لیے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری ملک میں سکیورٹی کے نئے خدشات کے پیش نظر عمل میں آئی ہے جس سے ادارے کی کارکردگی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
اسلام آباد: میجر جنرل فیصل ناصر کی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) میں بطور نیشنل کوآرڈینیٹر تقرری کے بعد یہ حساس ادارہ ایک بار پھر ملکی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ انہیں یہ اہم ذمہ داری تین سال کی مدت کے لیے سونپی گئی ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ قدم ملک میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق میجر جنرل فیصل ناصر نے ایسے وقت میں نیکٹا کا چارج سنبھالا ہے جب ملک کو اندرونی و بیرونی سکیورٹی کے محاذ پر نئے اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تقرری سے توقع کی جا رہی ہے کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور تمام سکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ کا ایک مرکزی ادارہ ہے۔ ادارے کی کارکردگی اور اس کے اجلاسوں کے حوالے سے ماضی میں مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں، اور نیکٹا کی آخری ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس اپریل 2024 میں منعقد ہوا تھا۔ نئی قیادت کے آنے کے بعد اب یہ اُمید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ادارے کے اجلاسوں کا سلسلہ باقاعدگی سے بحال ہوگا اور ملک میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو نئی جلا ملے گی۔