LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ انتظامیہ اور متنازعہ کرپٹو کرنسی بل پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دباؤ

News Image
ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں قانون نافذ کرنے والے سابق اور موجودہ حکام کو ایک متنازعہ کرپٹو کرنسی قانون کی حمایت پر زور دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون سے مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ بھر میں قانون نافذ کرنے والے موجودہ اور سابق اہلکاروں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایک اہم اور متنازعہ کرپٹو کرنسی قانون کی منظوری کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلائیں۔ اس قانون کو ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے خدوخال پر ماہرین اور ناقدین کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے قوانین سے مالیاتی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں اور مجرم عناصر اس کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے یہ کوششیں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب کانگریس میں ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے کئی حلقے اس بات پر پریشان ہیں کہ مجوزہ قانون سازی سے انسداد منی لانڈرنگ اور دیگر مالیاتی جرائم کے خلاف تحقیقات کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس کے باوجود، انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار اس بل کو پاس کرانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں اور اس کے حق میں لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، کرپٹو کرنسی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اداروں اور لابی گروپس نے اس بل کا خیرمقدم کیا ہے، ان کا مؤقف ہے کہ اس سے ملک میں ڈیجیٹل تجارت کو فروغ ملے گا اور انوویشن کے نئے دروازے کھلیں گے۔ تاہم، سول سوسائٹی اور مالیاتی امور کے ماہرین کا اصرار ہے کہ شفافیت اور تحفظ کے بغیر اس نوعیت کی قانون سازی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس متنازعہ بل پر مزید بحث متوقع ہے کیونکہ قانون ساز اس کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔