World
امریکی فضائی حملہ: شادی کی تقریب پر بمباری کے چشم دید گواہ کا بیان
امریکی فضائی حملے کے دوران ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ اس المناک واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ حالیہ امریکی بمباری کے دوران ایک پُر مسرت شادی کی تقریب کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جس نے ہر طرف خوف اور تباہی پھیلا دی۔ شادی میں شریک ایک مہمان نے اس دلخراش واقعے کی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ تقریب کے دوران خواتین روایتی انداز میں خوشی کے نعرے لگا رہی تھیں اور ماحول انتہائی پُر مسرت تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکے نے سب ਕੁਝ تہہ و بالا کر دیا۔ اس ناگہانی حملے کے نتیجے میں خوشیوں بھرا ماحول لمحوں میں ماتم اور نوحہ کناں فضا میں تبدیل ہو گیا۔ اس المناک واقعے کے بعد متعلقہ ایرانی قصبے میں ناقابلِ بیان سوگ اور تباہی کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس کارروائی میں بے گناہ شہریوں کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس نے علاقے کے مکینوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ شہداء کی تدفین کے مناظر انتہائی رقت آمیز تھے جہاں ہر آنکھ اشک بار تھی۔ دوسری جانب عالمی تجزیہ کاروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں اور اس تنازع کا پرامن حل نکالنا اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خطے میں جاری اس محاذ آرائی نے دنیا بھر کی توجہ اس جانب مبذول کرا دی ہے کہ عام شہریوں کو جنگی کارروائیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے، جس کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔