LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں تین سالہ پرانے اسرائیلی حملے کے بعد 55 لاشیں برآمد

News Image
فلسطینی امدادی ٹیموں نے غزہ میں ایک گھر پر تین سال قبل ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے پچپن افراد کی باقیات نکال لی ہیں۔ یہ تمام افراد ایک ہی فلسطینی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو اپنے گھر میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
غزہ میں سول ڈیفنس اور امدادی ٹیموں نے ایک انتہائی دلخراش کارروائی کے دوران تقریبا تین سال قبل ہونے والے ایک شدید اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ملبے تلے دبے پچپن افراد کی باقیات برآمد کر لی ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب فلسطینی خاندان اپنے آبائی گھر میں پناہ لیے ہوئے تھا اور اس دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے اس رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا تھا۔ حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پوری عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی تھی اور طویل عرصے تک وہاں تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔ حالیہ دنوں میں جب امدادی کارکنوں اور مقامی رضاکاروں کو اس مقام پر دوبارہ کام کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے جدید آلات اور دستی ذرائع کی مدد سے ملبے کی کھدائی شروع کی۔ کھدائی کے دوران ایک ہی خاندان کے پچپن افراد کی باقیات ملیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس المناک دریافت نے پورے علاقے میں سوگ کی فضا کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے اور لواحقین اپنے پیاروں کی باقیات ملنے پر شدید صدمے اور غم کی حالت میں ہیں۔ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور جنگی جرائم کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ جنگ کے دوران اس طرح کے سینکڑوں واقعات پیش آئے ہیں جہاں پورا خاندان ملبے تلے دب گیا اور طویل محاصرے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کے پیاروں کی باقیات تک بروقت رسائی ناممکن رہی تھی۔ اس تازہ ترین واقعے نے غزہ کے شہریوں کے مصائب کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا ہے۔