World
اسرائیل کا لبنان کی علی الطاہر ریج پر قبضہ، تازہ ترین صورتحال
اسرائیل کی وزارت دفاع نے لبنان کی ایک اسٹریٹجک اور اہم ترین بلندی علی الطاہر ریج پر آپریشنل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے جنوبی لبنان کی ایک انتہائی اسٹریٹجک اور کلیدی بلندی 'علی الطاہر ریج' پر مکمل آپریشنل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کو موجودہ تنازع میں ایک اہم تزویراتی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ اونچائی خطے میں عسکری نقل و حرکت اور نگرانی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس مقام پر کنٹرول حاصل کرنے سے ان کی افواج کو عسکری برتری حاصل ہوگی۔
دوسری جانب، اس اسرائیلی دعوے کے بعد لبنان کی عسکری و سیاسی جماعت حزب اللہ کی طرف سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس محاذ پر ہونے والی پیش رفت خطے کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ لبنانی عوام اور عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اسٹریٹجک ماہرین کے مطابق علی الطاہر ریج جیسے بلند مقامات پر قبضہ دونوں فریقوں کے لیے جنگی حکمت عملی کے تحت انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس مقام سے آس پاس کے وسیع و عریض علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور دفاعی و جوابی کارروائیوں میں آسانی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کار اس پیش رفت کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ زمینی حقائق کتنی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن زمینی سطح پر جاری کشیدگی میں فی الحال کمی کے آثار نظر نہیں آرہی۔ اسرائیل کا یہ تازہ دعویٰ تنازع کو مزید طول دینے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے انسانی بحران اور سکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں اس علاقے کی صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔