LIVE
Loading Breaking News...

روسی صدر پوتین اور امریکی ایلچیوں کی یوکرین جنگ پر اہم مذاکرات

News Image
روسی صدر ولادیمیر پوتین نے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچیوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف سے کریملن میں ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب فریقین نے مذاکرات کے دوران تین دن تک ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر حملے نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتین نے یوکرین میں چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچیوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف سے ماسکو کے کریملن میں ملاقات کی ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہے ہیں جب واشنگتن یورپ کے اس بدترین تنازع کو ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روسی ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج کے مطابق صدر پوتین نے امریکی ایلچیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بلاشبہ آسان نہیں ہے، تاہم مذاکرات شروع کرنے سے پہلے وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات اور تشکر کے کلمات پہنچانا چاہتے ہیں۔ ماسکو میں ہونے والی ان ابتدائی بات چیت کے بعد امریکی ایلچیوں کا اتوار کے روز کیف کا دورہ بھی متوقع ہے۔ دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روس نے اس دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے تحت کیف کے ہوائی اڈوں اور دنیپر کے علاقے میں حملے کیے جن میں جانی نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ یوکرین کی طرف سے سفارت کاری کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور مذاکرات کے دوران حملے نہ کرنے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے داماد جیرڈ کشنر اور کاروباری ساتھی اسٹیو وٹکوف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم تجویز لے کر گئے ہیں۔ انہوں نے دونوں کو بہترین مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس مشن کے ذریعے امن کی جانب حقیقی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ یہ دورہ اس پس منظر میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں میں شدت لائے ہوئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ تجزیہ کار اس ملاقات کو یوکرین کے تنازع کے حل کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔