Pakistan
کراچی گزری تیزاب حملہ کیس: ملزم راجن پور سے گرفتار
کراچی کے علاقے اپر گزری میں خاتون پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں پولیس نے مرکزی ملزم کو پنجاب کے ضلع راجن پور سے گرفتار کر لیا ہے۔ متاثرہ خاتون کو جھلسنے کے بعد سول اسپتال کے برنس سینٹر منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
کراچی کے علاقے اپر گزری میں گزشتہ دنوں ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے کے ہولناک واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو پولیس نے پنجاب سے گرفتار کر لیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ سید اسد رضا نے تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی سندھ اور پنجاب پولیس کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت عمل میں لائی گئی، جس کے بعد ملزم کو اس کے آبائی علاقے راجن پور سے حراست میں لے لیا گیا۔ حکام کے مطابق ملزم واردات کے فورا بعد کراچی سے فرار ہو کر پنجاب رو پوش ہو گیا تھا، تاہم پولیس نے جدید تکنیکی ذرائع اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے اس کا سراغ لگا لیا۔ یاد رہے کہ جمعرات کے روز پیش آنے والے اس دلخراش واقعے میں 35 سالہ خاتون شدید جھلس گئی تھی جب ایک نامعلوم شخص نے ان پر تیزاب پھینک دیا تھا۔ واقعے کے فورا بعد ایدھی ایمبولینس کے ذریعے متاثرہ خاتون کو ڈاکٹر روتھ فاؤ سول اسپتال کراچی کے برنس سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کے جسم کا تقریباً 15 فیصد حصہ بالخصوص چہرہ، گردن اور پیٹ کا حصہ جھلس گیا ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے تصدیق کی کہ متاثرہ خاتون ایک بنگلے میں کام کرتی تھیں اور روزگار کے سلسلے میں اپنی شفٹ ختم کرنے کے بعد گھر واپس جا رہی تھیں کہ راستے میں ملزم نے سفاکیت کا نشانہ بنایا۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے اس اندوہناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام کو ہدایت کی تھی کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جائے اور اسے کٹہرے میں لایا جائے۔ ڈی آئی جی اسد رضا نے بتایا کہ ملزم کو کراچی منتقل کرنے کے لیے سندھ محکمہ داخلہ سے باضابطہ اجازت حاصل کی جا رہی ہے تاکہ تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ رواں سال جون میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی کے جرائم کو قتل سے بھی زیادہ گھناؤنا قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ ایسے جرائم متاثرہ افراد کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہیں۔