Health
امریکہ میں کم عمر بچوں کو وزن کم کرنے کی ادویات دینے کا رجحان
ایک نئے طبی مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ میں بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو وزن میں کمی کی ادویات دینے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کی صحت پر اس کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔
امریکہ میں صحت سے متعلق سامنے آنے والی ایک تازہ ترین تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو وزن گھٹانے کی ادویات تجویز کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ رجحان طبی ماہرین اور والدین دونوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے کیونکہ اس عمر کے بچوں کے اعضاء اور جسمانی نشوونما کا عمل جاری ہوتا ہے۔ طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، کم سن بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کے تدارک کے لیے اب روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ادویات کا استعمال بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جس پر طبی دنیا میں بحث شروع ہو چکی ہے۔
محققین اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والی یہ ادویات عام طور پر نوجوانی یا بالغ افراد کے لیے تیار کی جاتی ہیں اور کم عمر بچوں پر ان کے طویل المدتی سائیڈ ایفیکٹس یا نقصانات کا مکمل سائنسی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ بچوں کی نشوونما کے اس نازک مرحلے پر ہارمونز اور میٹابولزم پر ان ادویات کے اثرات خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ادویات دینے کے بجائے بچوں کو صحت مند خوراک کھلانے اور ان میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر توجہ دی جانی چاہیے تاکہ موٹاپے پر قدرتی طریقے سے قابو پایا جا سکے۔
دوسری جانب، بچوں کے امراض کے ماہرین اور والدین کا ماننا ہے کہ شدید نوعیت کے موٹاپے سے نبردآزما بچوں کے لیے بعض اوقات ادویات ناگزیر ہو جاتی ہیں کیونکہ بچپن کا موٹاپا آگے چل کر دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور دیگر سنگین امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ڈاکٹرز کو انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی مجموعی صحت کو خطرے میں ڈالے بغیر ان کا مناسب علاج کیا جا سکے۔ اس مطالعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کم عمر بچوں میں ادویات کے استعمال کے حوالے سے مزید گہرے طبی تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔