World
امریکی فوج کی کارروائی، تین ایرانی تیل کے ٹینکرز تباہ
امریکی فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے قریب کارروائی کرتے ہوئے تین ایرانی تیل کے ٹینکرز کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کارروائی سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی فوج نے جمعے کے روز ایک بڑے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی افواج نے تین ایرانی تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر توانائی کی سپلائی اور سمندری راستوں کی سکیورٹی کے حوالے سے پہلے ہی شدید نوعیت کے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ امریکی فوجی حکام کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ کارروائی سمندری حدود میں ہونے والی نقل و حرکت اور خطے میں جاری سکیورٹی خدشات کے تناظر میں کی گئی۔ اس حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو کہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ تیل کے ان ٹینکرز کی تباہی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف خطے کا امن تباہ ہوتا ہے بلکہ عالمی تجارت بالخصوص تیل اور گیس کی ترسیل کے بحری راستے بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب، تاحال تہران کی طرف سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اس کارروائی پر سخت سفارتی یا جوابی ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگ یا تباہی سے بچایا جا سکے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا بڑھنا عالمی معیشت اور امن کے مفاد میں نہیں۔