LIVE
Loading Breaking News...

امریکا میں لیبر ڈے کے موقع پر پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ بلند ترین سطح پر

News Image
امریکا میں لیبر ڈے کے طویل تعطلیاتی ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس اضافے سے شہریوں کے سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تعطیلات کے دوران مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
امریکا میں اس بار لیبر ڈے کے طویل تعطلیاتی ہفتے کے دوران شہریوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ملک بھر میں پیٹرول کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئیں۔ موسم گرما کے اختتام اور اس طویل ویک اینڈ پر عام طور پر لاکھوں امریکی شہری تفریحی دوروں اور خاندانی ملاقاتوں کے لیے سڑکوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن ایندھن کے نرخوں میں بے تحاشا اضافے نے ان کے تمام سفری منصوبوں کو متاثر کر دیا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق، طلب میں اضافے اور عالمی منڈی میں تیل کی رسد کے مسائل کی وجہ سے قیمتیں اس نہج پر پہنچی ہیں کہ عام آدمی کی قوتِ خرید براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ اس سال کے لیبر ڈے پر ایندھن کی یہ بلند ترین قیمتیں نہ صرف تعطیلات منانے والے شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنیں بلکہ اس نے نقل و حمل اور لاجسٹکس کے شعبوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ فیول مہنگا ہونے کی وجہ سے کاروں کے ذریعے سفر کرنے والے خاندانوں کو اپنے بجٹ میں نمایاں ردوبدل کرنا پڑا، اور کئی لوگوں نے اپنے طے شدہ پروگراموں کو مختصر کرنے یا منسوخ کرنے پر مجبوراً غور کیا۔ ٹرانسپورٹیشن انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قیمتیں معیشت کے دیگر شعبوں بالخصوص سیاحت اور پرچون فروخت کو بھی منفی انداز میں متاثر کرتی ہیں کیونکہ لوگ غیر ضروری سفر سے گریز کرتے ہیں۔ حکومت اور توانائی کے اداروں پر بھی اس صورتحال کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ اگرچہ موسم گرما کے اختتام کے ساتھ ہی عام طور پر پیٹرول کی طلب میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے، تاہم موجودہ مالیاتی دباؤ نے صارفین کے اندر طویل المدتی مہنگائی کے حوالے سے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اگر عالمی سطح پر تیل کی منڈی میں استحکام نہیں آتا تو عوام کو روزمرہ کی اشیاء کے لیے بھی مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔