Business
امریکی ملازمتوں میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی شرح سود کا فیصلہ
اگست کے مہینے میں امریکی روزگار کی رپورٹ توقعات سے کہیں زیادہ بہتر رہی ہے جس کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ اس معاشی صورتحال کے تناظر میں اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا اور سرمایہ کار نئی پالیسیوں کا انتظار کر رہے ہیں۔
امریکہ میں اگست کے مہینے کے دوران روزگار کے شعبے میں غیر متوقع طور پر شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے مالیاتی منڈیوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اگست میں امریکی پے رولز میں ایک لاکھ باسٹھ ہزار نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا جو کہ معاشی ماہرین کی جانب سے لگائے جانے والے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس مثبت پیش رفت کے نتیجے میں ملک میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر چار اعشاریہ ایک فیصد پر آ گئی ہے، جو کہ لیبر مارکیٹ کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔
اس مضبوط جاب رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد وال اسٹریٹ اور دیگر عالمی مالیاتی مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی ہے۔ سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اتنی مضبوط معاشی کارکردگی کے بعد امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو پر ستمبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھانے کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق اس گرم جوش رپورٹس کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی دیکھا گیا ہے کیونکہ سرمایہ کار مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مزید سخت مالیاتی پالیسیوں کے خطرات کا اندازہ لگا رہے ہیں۔
دوسری جانب، مجموعی معاشی منظر نامے میں دیگر چیلنجز بھی موجود ہیں جن میں ایندھن اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے، جو ملکی معیشت پر ملے جلے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ سیاسی اور معاشی حلقوں میں ان رجحانات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ آنے والے وقت میں امریکی صارفین کی قوت خرید اور مجموعی اقتصادی ترقی کی رفتار کا تعین کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں فیڈرل ریزرو کے حکام کے بیانات مارکیٹ کی سمت ط طے کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔