LIVE
Loading Breaking News...

ایتھنز ڈیفنس سمٹ اور یورپ میں دفاعی حکمت عملی

News Image
ایتھنز ڈیفنس سمٹ میں امریکہ اور یورپ کے اعلیٰ حکام نے بڑھتے ہوئے عالمی خطرات کے پیش نظر دفاعی اہداف پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس اجلاس کا مقصد مغربی تہذیب کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔
ایتھنز، یونان میں منعقد ہونے والے ایک اہم دفاعی سربراہی اجلاس (ایتھنز ڈیفنس سمٹ) میں امریکہ اور یورپ کے اعلیٰ ترین حکام نے شرکت کی ہے۔ اس سمٹ کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مغربی تہذیب اور سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں ایک مشترکہ دفاعی لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں روایتی اور غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مربوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سمٹ میں ہونے والے مذاکرات دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کے اس طویل مدتی وژن کا عکاس ہیں جس کے تحت یورپ کو اپنے دفاع کے لیے مزید خود کفیل اور مضبوط بننا چاہیے۔ امریکی اور یورپی رہنماؤں نے اس موقع پر دفاعی اخراجات، عسکری تعاون اور نئی ٹیکنالوجی کے بروئے کار لانے کے امور پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں شریک مندوبین کا ماننا تھا کہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی اور عسکری توازن کے درمیان مغربی ممالک کو باہمی اتحاد کو مزید گہرا کرنا ہوگا۔ سمٹ کے دوران ہونے والی بات چیت میں ان تمام ممکنہ خطرات کا احاطہ کیا گیا جو خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دے کر کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔ اس اجلاس کو مستقبل کی یورپی دفاعی پالیسیوں کی تشکیل میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو آنے والے دنوں میں مزید ٹھوس فیصلوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔