LIVE
Loading Breaking News...

الجزیرہ رپورٹر کا امریکی سفیر مائیک ہکابی سے تلخ سوال

News Image
الجزیرہ کے ایک صحافی نے نامزد امریکی سفیر مائیک ہکابی کو اس وقت چیلنج کیا جب انہوں نے پرتشدد صیہونی آباد کاروں کو ایک معمولی اقلیت قرار دیا۔ اس واقعے نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور امریکی سفارتی مؤقف پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
الجزیرہ کے ایک نمایاں صحافی نے نامزد امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی کو اس وقت کٹہرے میں کھڑا کر دیا جب انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرنے والے صیہونی آباد کاروں کو محض ایک معمولی اقلیت قرار دینے کی کوشش کی۔ اس بحث نے بین الاقوامی سطح پر اس دیرینہ تنازع اور اس پر مغربی مؤقف کی دوغلی پالیسیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ مائیک ہکابی کے حالیہ بیانات میں صیہونی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی دیہات پر ہونے والے حملوں، املاک کی توڑ پھوڑ اور جبری بے دخلیوں کو کم تر ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ الجزیرہ کے رپورٹر نے اس مؤقف پر سخت جرح کرتے ہوئے دلائل دیے کہ یہ پرتشدد کارروائیاں کوئی چھوٹی موٹی یا الگ تھلگ مثالیں نہیں ہیں بلکہ منظم ریاستی سرپرستی میں ہونے والے اقدامات ہیں جو مقامی فلسطینی آبادی کے لیے عذابِ جان بنے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے بیانات امریکہ اور اسرائیل کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتے ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور صیہونی غنڈہ گردی کو بین الاقوامی میڈیا کے سامنے اس طرح چیلنج کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ زمینی حقائق کو اب زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ عالمی سطح پر اس مباحثے نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کی توجہ ایک بار پھر مقبوضہ علاقوں کی طرف مبذول کروائی ہے۔ جہاں ایک طرف سفارتی سطح پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے، وہیں آزاد صحافت کا یہ کردار مظلوم فلسطینیوں کی آواز کو دنیا کے ایوانوں تک پہنچانے میں اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے تاکہ ظالم و مظلوم کا فرق واضح رہے۔