LIVE
Loading Breaking News...

بیت المقدس میں جاری اسرائیلی کارروائیاں اور آباد کاروں کے حملے

News Image
بیت المقدس اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں اور صیہونی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب، امریکی سفیر کے طور پر نامزد مائیک ہکا بی کے متنازع دورے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جہاں اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسلسل چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، قابض فوج نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ گھروں کی توڑ پھوڑ اور تلاشی کا عمل بھی روز کا معمول بن چکا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران شہریوں کو شدید ہراساں کیا جا رہا ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیاں کھلے عام ہو رہی ہیں۔ان پرتشدد کارروائیوں کے دوران صیہونی آباد کاروں کے حوصلے بھی بلند ہیں جو غاصب فوج کی پشت پناہی سے فلسطینی شہریوں، ان کی املاک اور زرعی زمینوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے جبراً بے دخل کرنا اور نئی غیر قانونی بستیوں کی توسیع کرنا ہے۔ متعدد دیہاتوں میں آباد کاروں نے گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور نہتے شہریوں پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں۔عالمی سطح پر اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم اس تمام صورتحال کے دوران امریکہ کے نامزد سفیر مائیک ہکا بی نے مقبوضہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔ مائیک ہکا بی کے اس دورے کو سیاسی اور سفارتی حلقوں میں انتہائی متنازعہ نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ ماضی میں بھی قابض ریاست کے غیر قانونی اقدامات کی کھلم کھلا حمایت کرتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دورے اور بیرونی حمایت قابض انتظامیہ کو مزید شہہ دیتی ہے جس سے خطے میں پائیدار امن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔فلسطینی قیادت اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نہتے فلسطینیوں کو قابض فورسز اور انتہا پسند آباد کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تو انسانی المیہ مزید سنگین شکل اختیار کر جائے گا۔ عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جاری ان کارروائیوں کے خلاف فوری اور عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے تاکہ خطے میں مزید خون خرابے کو روکا جا سکے