World
امریکہ سے ڈی پورٹ تارکین وطن گیانا منتقل، ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تیسرے ممالک میں تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کے معاہدوں کے تحت کیوبا اور افغانستان کے شہری گیانا پہنچ گئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایسے اب تک تیس سے زائد معاہدے کیے جا چکے ہیں۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تارکین وطن کی ملک بدری کے حوالے سے سخت اور نئی پالیسیوں پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت حال ہی میں کیوبا اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو امریکہ سے نکال کر گیانا پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے علاوہ تیسرے ممالک میں بھیجا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اس نوعیت کے اقدامات کو وسعت دینے کے لیے اب تک مختلف ممالک کے ساتھ تیس سے زائد معاہدے طے کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کو یقینی بنانا اور ان کی فوری منتقلی کے لیے متبادل راستے تلاش کرنا ہے۔ گیانا پہنچنے والے ان تارکین وطن کے حوالے سے مقامی حکام اور بین الاقوامی فریقین کی جانب سے صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور مبصرین نے اس پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ تیسرے ممالک میں تارکین وطن کی منتقلی سے انسانی حقوق اور حفاظتی امور کے حوالے سے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔ اس کے باوجود امریکی انتظامیہ اپنی اس حکمت عملی پر سختی سے کاربند ہے اور آنے والے دنوں میں اس طرح کی مزید پروازیں اور منتقلی متوقع ہے۔
گیانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے اس پوری صورتحال پر باضابطہ تبصرے جاری کیے گئے ہیں جبکہ اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ تمام بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان معاملات کو ہینڈل کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر امریکی امیگریشن پالیسیوں اور بین الاقوامی سطح پر تارکین وطن کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے دیا ہے۔