World
روسی صدر پوتن اور امریکی نمائندوں کی ملاقات، یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ماسکو میں امریکی نمائندوں سے ملاقات کی ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر غور کیا جا سکے۔ اس اہم سفارتی پیشرفت کے دوران دونوں فریقین نے مذاکرات کے پیش نظر تین دن تک ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر حملے نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی نمائندوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی ہے جس کا بنیادی مقصد یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی تجاویز پر تفصیلی غور کرنا تھا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اس طویل اور تباہ کن تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ دونوں فریقین نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سفارتی عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے روس اور یوکرین نے یہ بھی عہد کیا ہے کہ وہ ماسکو اور کییف میں جاری بات چیت کے دوران اگلے تین دنوں تک ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر فضائی یا زمینی حملے نہیں کریں گے۔ اس عزم کو جنگ بندی کی جانب ایک مثبت اور ابتدائی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین اس پیشرفت کو قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں کیونکہ یہ مذاکرات آئندہ کے لائحہ عمل طے کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ فریقین کے درمیان بنیادی مطالبات اور مؤقف میں تاحال کافی اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم اعلیٰ سطحی رابطوں کا آغاز اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں اطراف اب سفارتی حل تلاش کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ امریکی نمائندوں کی ماسکو آمد اور صدر پوتن کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگ کے خاتمے سے متعلق مزید خاکہ سامنے آئے گا، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری عالمی معیشت اور سکیورٹی کے لیے بھی نہایت اہم ہوگا۔