World
جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی تاریخی کامیابی کا امکان
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی ملک کی سولہ ریاستوں میں سے ایک میں پہلی بار اقتدار حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ پیشگوئی حالیہ پولز اور سیاسی تجزیوں کی روشنی میں کی جا رہی ہے جو ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ ہے۔
جرمنی کی سیاست میں ایک نیا اور انتہائی اہم موڑ اس وقت سامنے آ رہا ہے جب انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'الٹرنیٹو فار جرمنی' (AfD) ملک کی سولہ ریاستوں میں سے کسی ایک میں پہلی بار اقتدار حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت جرمن سیاسی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر نے کبھی اس سطح پر حکومتی اختیارات حاصل نہیں کیے ہیں۔ حالیہ جائزوں اور پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو چکی ہے جس کا براہ راست فائدہ اے ایف ڈی کو مل رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مہنگائی، معاشی سست روی اور ہجرت کے مسائل پر ووٹرز میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور اس جماعت نے انہی موضوعات کو اپنی انتہاپسندانہ مہم کا محور بنایا ہے۔ اس ممکنہ کامیابی کے بعد جرمنی کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے اے ایف ڈی کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جماعت کسی ریاست میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ پورے یورپی یونین میں ایک گہرا اثر پڑے گا اور دیگر یورپی ممالک کی دائیں بازو کی جماعتوں کو بھی حوصلہ ملے گا۔ سیاسی حلقوں میں اس پیشرفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف اے ایف ڈی کے حامی اسے جمہوریت کی فتح اور عوام کی حقیقی آواز قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں انتخابی نتائج اور اس کے بعد بننے والی سیاسی صورتحال پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہوں گی کیونکہ یہ جرمنی کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گی۔