World
اقوام متحدہ کا قاتل روبوٹس کی تعریف پر اتفاق، بین الاقوامی معاہدے کا امکان
تقریباً 128 ممالک نے مہلک خودکار ہتھیاروں یعنی قاتل روبوٹس کی تعریف کرنے والے ایک متن پر اتفاق کر لیا ہے جو اس حوالے سے بین الاقوامی معاہدے کی جانب پہلا قدم ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکہ اور روس سمیت چند بڑے ممالک پر مذاکرات کو کمزور کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے مذاکرات میں تقریباً 128 ممالک نے ہفتے کے روز مہلک خودکار ہتھیاروں کے نظام (LAWS)، جنہیں ناقدین قاتل روبوٹس بھی کہتے ہیں، کی تعریف کرنے والے ایک مشترکہ متن پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ قدم اس حوالے سے ایک ممکنہ بین الاقوامی معاہدے کی باقاعدہ بات چیت کی طرف پہلا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اتفاق رائے سے طے پانے والے اس متن کو ابھی تک عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن مذاکرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے والی مہم چلانے والی تنظیموں نے پہلے ہی چند سرکردہ ممالک پر اس معاملے پر تاخیر اور ہچکچاہٹ کا مظاہر کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔ نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹوم بیرینڈسن نے ہفتے کے روز 128 ممالک کے درمیان اس معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا۔ واضح رہے کہ نیدرلینڈز ہی ان مذاکرات کی نگرانی کر رہا ہے۔ دنیا بھر کے کئی ممالک پہلے ہی ایسے ہتھیار تیار کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر اہداف کا انتخاب کرنے اور ان پر طاقت کے استعمال کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) نے ایک سخت بیان میں خبردار کیا ہے کہ خودکار ہتھیاروں کے نظام کی غیر محدود ترقی اور استعمال سنگین قانونی، اخلاقی اور انسانی نوعیت کے چیلنجز پیدا کرتا ہے۔ ریڈ کراس اور دیگر متعدد سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ہتھیاروں کے استعمال کو محدود اور ضابطے میں لانے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر قانونی طور پر پابند قوانین بنائے جائیں۔ اس دوران، قاتل روبوٹس کو روکنے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی اتحاد 'سٹاپ کلر روبوٹس' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکول وان روئیجن نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ، روس اور ان کے اتحادی ممالک متفقہ متن کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جنیوا میں قائم ایک اور فلاحی گروپ نے بھی کئی ممالک کے مؤقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، روس، بھارت اور اسرائیل اس بات چیت کے اہم مخالفت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ دوسری طرف، برازیل، آئرلینڈ اور ناروے کی حکومتیں نومبر میں اس حوالے سے باضابطہ مذاکرات شروع کرانے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ اب نومبر میں منعقدہ روایتی ہتھیاروں کے کنونشن کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ان مہلک ہتھیاروں کو ضابطے میں لانے کے لیے کسی بین الاقوامی معاہدے کی طرف بڑھنا ہے یا نہیں۔