Pakistan
پی آئی اے نجکاری کیس: عدالت کا حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس
قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف عدالت میں ایک نئی درخواست دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل کو ایک بار پھر عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر بحث جاری ہے۔ درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں قانونی تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا جا رہا اور قومی اثاثوں کو شفافیت کے بغیر فروخت کرنے کے سنگین خدشات پائے جاتے ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ابتدائی طور پر متعلقہ محکموں اور حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ اس عدالتی کارروائی کے بعد پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر قانونی گھماؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس سے حکومتی معاشی اصلاحات اور نجکاری کے پروگرام پر بھی اثرات پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے سے اس بات کا تعین ہوگا کہ آیا موجودہ نجکاری کا عمل قانونی دائرہ کار میں مکمل ہو رہا ہے یا اس میں مزید ترامیم اور شفافیت کی ضرورت ہے۔