Technology
AI Boom Financial Risks: وارٹن پروفیسر کا انتباہ
وارٹن اسکول کے فنانس کے پروفیسر جواؤ گومز نے انتباہ جاری کیا ہے کہ فیڈرل ریزرو کو مصنوعی ذہانت کے حالیہ سرمائے کے دھماکے اور اس کی مالی معاونت پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان میں مالیاتی خطرات پوشیدہ ہیں جو معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
وارٹن اسکول آف بزنس کے فنانس کے پروفیسر اور ریسرچ کے سینئر وائس ڈین جواؤ گومز نے حالیہ دنوں میں ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کو اس بات پر گہری توجہ دینی چاہیے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والے زبردست سرمائے کے دھماکے کی مالی اعانت کی جا رہی ہے۔ اے آئی کی دنیا میں انقلاب کے بعد سے اس ٹیکنالوجی میں اربوں ڈالر جھونکے جا رہے ہیں، لیکن اس کے پیچھے کارفرما مالیاتی نیٹ ورکس اور ان کے ممکنہ خطرات پر اب ماہرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔
پروفیسر جواؤ گومز کے مطابق، اگرچہ مصنوعی ذہانت معیشت اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو رہی ہے، لیکن اس کی فنڈنگ کے طریق کار میں کچھ ایسے خطرات موجود ہیں جو روایتی مالیاتی منڈیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جب اتنی بڑی مقدار میں سرمائے کو ایک ہی شعبے میں تیزی سے لگایا جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ببل بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر یہ کمپنیاں توقعات کے مطابق منافع کمانے میں ناکام رہتی ہیں، تو اس کے اثرات براہ راست پورے مالیاتی نظام پر پڑ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین اقتصادیات اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ریگولیٹری اداروں اور خاص طور پر فیڈرل ریزرو کو اس منظر نامے کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔ مالیاتی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اے آئی کمپنیوں کی فنڈنگ کے ذرائع، قرضوں کے حجم اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر کڑی نظر رکھی جائے۔ بصورت دیگر، ٹیکنالوجی کا یہ عروج اچانک کسی بڑے معاشی بحران کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے، جس سے ناصرف سرمایہ کار بلکہ عام معیشت بھی متاثر ہوگی۔