World
اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کا چینی تعلقات پر 2.1 ملین ڈالر کا تصفیہ
اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی نے اپنے ایک سابق محقق کے چین کے ساتھ نامناسب غیر ملکی تعلقات کا اعتراف کر لیا ہے۔ یونیورسٹی نے وفاقی الزامات کو رفع کرنے کے لیے 21 لاکھ ڈالر کے تصفیے کی ادائیگی منظور کر لی ہے۔
امریکہ کی معروف اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اس کے ایک سابق محقق کے چین کے ساتھ نامناسب غیر ملکی تعلقات تھے۔ اس انکشاف کے بعد یونیورسٹی نے وفاقی سطح پر لگائے جانے والے ان الزامات کو ختم کرنے کے لیے اکیس لاکھ ڈالر کے مالی تصفیے کی ادائیگی پر اتفاق کیا ہے، جس میں وفاقی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ معاہدہ طے پایا ہے۔ یہ پورا معاملہ امریکی جامعات میں بیرونی بالخصوص چینی اثرورسوخ اور تحقیقی اداروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی حکام کی جانب سے یونیورسٹی پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے اپنے ایک محقق کے حوالے سے غیر ملکی فنڈنگ اور تعلقات کی مکمل اور شفاف معلومات فراہم نہیں کی تھیں، جو کہ قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت یونیورسٹی نے تصفیہ کی رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ مقدمے کی طوالت اور مزید قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ امریکی حکومت اس بات پر سختی سے زور دے رہی ہے کہ تمام تحقیقی ادارے بیرونی فنڈنگ اور خاص طور پر چین کے ساتھ روابط کے معاملات میں مکمل شفافیت کو یقینی بنائیں تاکہ ملکی سلامتی اور ٹیکنالوجی کے تحفظ کو نقصان نہ پہنچے۔ اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ وفاقی قوانین کی پاسداری اور تحقیقی اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے تصفیات امریکی جامعات کے لیے ایک سخت پیغام ہیں کہ وہ اپنے محققین کی بیرونی مصروفیت پر کڑی نظر رکھیں اور قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کریں۔