Technology
نیویارک اسکولوں میں اے آئی پر پابندی، کے-آٹھ طلباء کے لیے نیا فیصلہ
نیویارک کے حکام نے پبلک اسکولوں میں کے-آٹھ کے طلباء کے لیے کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایک سالہ پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد تعلیمی اداروں میں طلباء کی بنیادی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچانا ہے۔
نیویارک کے پبلک اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلباء کی فکری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ حالیہ اعلانات کے مطابق، شہر کے تعلیمی حکام نے کے-آٹھ (K-8) جماعتوں کے طلباء کے لیے کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر باضابطہ طور پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد بچوں میں تنقیدی سوچ، خود مختار سیکھنے کی صلاحیت اور بنیادی تعلیمی مہارتوں کو فروغ دینا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی فی الحال ابتدائی اور مڈل اسکول کی سطح پر نافذ کی جائے گی تاکہ طلباء اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ٹیکنالوجی پر اندھا دھند انحصار کرنے کے بجائے خود مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اساتذہ اور والدین کے لیے کئی نئے چےلنجز کھڑے کر دیے تھے، جن میں طلباء کی جانب سے ہوم ورک اور اسائنمنٹس میں شارٹ کٹ کا استعمال سر فہرست ہے۔
اس ایک سالہ پابندی کے دوران، ماہرین تعلیم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے طویل مدتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں اور کیا اس ٹیکنالوجی کو مستقبل میں طلباء کے لیے زیادہ مثبت انداز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ طلباء کو روایتی طریقوں سے سیکھنے کی ترغیب دیں اور اس دوران ڈیجیٹل اخلاقیات سے متعلق تربیتی سیشنز کا بھی انعقاد کریں۔ والدین اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم اکثریت کا ماننا ہے کہ یہ قدم بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔