Politics
خواجہ آصف کا پیپلز پارٹی پر تنقید، نئے صوبوں پر دوہرے معیار کا الزام
وفاقی وزیر خواجہ آصف نے ملک میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی پر نئے صوبوں کے معاملے پر تضاد اور دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے عوامی مشاورت اور رضامندی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر خواجہ آصف نے ملک میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو وقت کی اہم ضرورت اور ناگزیر قرار دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے تضاد کا شکار ہے اور اس معاملے پر اس کا رویہ دوہرے معیار پر مبنی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس وقت نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی تقسیم کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر چکی ہے، جس میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی اس حوالے سے مؤقف سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس صرف اور صرف عوام کی رضامندی کے ساتھ ہی بنائے جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس عمل کے لیے ریفرنڈم جیسے جمہوری طریقوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کی حقیقی رائے معلوم کی جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کا قیام ہمیشہ سے ایک حساس سیاسی موضوع رہا ہے جس پر تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ خواجہ آصف کے حالیہ بیانات نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں صوبوں کی تشکیل، اختیارات کی تقسیم اور آئینی تقاضوں پر کھل کر گفتگو کی جا رہی ہے۔