Technology
ونڈوز سٹوریج رولز اور ایم ایس ڈاس کا تاریخی تعلق
ونڈوز کے جدید آپریٹنگ سسٹم میں اب بھی کئی ایسے پرانے اصول موجود ہیں جو دیکھنے میں غیر منطقی لگتے ہیں۔ ان تمام عجیب و غریب پابندیوں اور طریقہ کار کا تعلق براہ راست پرانے ڈاس (DOS) نظام سے ہے۔
ونڈوز الیون بظاہر ایک نہایت جدید آپریٹنگ سسٹم دکھائی دیتا ہے جس میں گول کونے، فلوئنٹ ڈیزائن، کلاؤڈ سروسز اور کئی ایسی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں جو چند دہائیاں پہلے ناقابل یقین محسوس ہوتی تھیں۔ تاہم، اس جدید سکرین اور خوبصورت انٹرفیس کے پیچھے اب بھی ایسے کئی پرانے اصول اور ضابطے چھپے ہوئے ہیں جو بظاہر بالکل غیر منطقی معلوم ہوتے ہیں۔ ان قوانین کا تعلق ونڈوز کے ڈی این اے میں موجود اس تاریخ سے ہے جو کمپیوٹر کے ابتدائی ایام تک جاتی ہے۔ جب آپ غور کرتے ہیں کہ ونڈوز کیوں کچھ مخصوص ڈرائیو لیٹرز جیسے سی اور ڈی کا استعمال کرتی ہے، یا کیوں کچھ فائل نیمز پر تاحال پابندیاں عائد ہیں، تو اس کی اصل وجہ ایم ایس ڈاس (MS-DOS) کا دور نکلتا ہے۔ پرانے زمانے کے یہ اصول آج کے جدید کلاؤڈ اور ایس ایس ڈی دور میں بھی سافٹ ویئر کی مطابقت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ مائیکروسافٹ کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے کہ وہ ایک طرف تو اپنے سسٹم کو جدید سے جدید تر بنائے اور دوسری طرف پرانے ورچوئل سسٹمز، پرانی فائلوں اور پرانے سافٹ ویئر کی معاونت کو بھی ختم نہ ہونے دے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی بنیادی کمانڈز اور سٹوریج سٹرکچر آج بھی اسی طرح کام کر رہے ہیں جیسے وہ اسی کی دہائی میں کیا کرتے تھے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ صارفین کو یہ قوانین اب عجیب یا متروک لگ سکتے ہیں، لیکن یہ نظام کی مجموعی روانی اور پرانے پروگراموں کو کریش ہونے سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ جب تک دنیا بھر کے دفاتر اور ادارے پرانے سوفٹ ویئر پر انحصار کرتے رہیں گے، ونڈوز کو اپنی اس تاریخی میراث کو کسی نہ کسی شکل میں ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔