LIVE
Loading Breaking News...

اسد طور کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا این سی سی آئی اے کو الزامات کی تفصیلات دینے کا حکم

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ وہ صحافی اسد علی طور کے خلاف عائد کردہ الزامات کی مکمل تفصیلات فراہم کرے۔ عدالت نے یہ حکم اسد طور کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ وہ معروف صحافی اسد علی طور کو ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تمام تفصیلات فوری طور پر فراہم کرے۔ یہ فیصلہ صحافی اسد طور کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست پر سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے این سی سی آئی اے کے نوٹس کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اسد طور کو پیمیکا کے تحت جعلی معلومات کی مبینہ ترسیل کے الزام میں طلب کیا گیا تھا جس پر صحافتی برادری اور قانونی حلقوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اور صحافتی تنظیموں کا موقف تھا کہ نوٹس میں مخصوص الزامات اور چارجز کی عدم فراہمی دراصل قانون کا غلط استعمال ہے۔ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو بغیر ٹھوس بنیادوں اور تفصیلات کے نوٹس جاری کرنا بنیادی حقوق اور آزادی صحافت کے منافی ہے۔ اسد علی طور نے بھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قانونی تقاضوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ عدالت عالیہ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد این سی سی آئی اے کو حکم دیا کہ وہ قانون کے مطابق شفافیت کو یقینی بنائے اور صحافی کو ان الزامات کی نقل فراہم کرے جن کی بنیاد پر انہیں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے اس حکم کو صحافتی آزادی کے حامیوں کی طرف سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ان الزامات کی شفافیت کا اندازہ ہو سکے گا جو صحافیوں کے خلاف دائر کیے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پیمیکا قوانین اور سائبر کرائمز کے تحت صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر ملک بھر میں شدید بحث جاری ہے۔ اس کیس کی اگلی سماعت میں مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے جہاں اسد طور کے وکلاء این سی سی آئی اے کے نوٹس کے قانونی جواز کو مزید چیلنج کریں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے امید کی جا رہی ہے کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق شفاف اور منصفانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔