Entertainment
فردر بس سان فرانسسکو واپس، گریٹ فل ڈیڈ کی نمائش کا آغاز
کین کیسی کی تاریخی اور رنگ برنگی ’فردر‘ بس کو سان فرانسسکو میں گریٹ فل ڈیڈ کی نئی نمائش کا مرکزی حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ معروف بس چھ دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد واپس اپنے اصل شہر پہنچی ہے۔
امریکی ثقافت اور موسیقی کی تاریخ کا ایک اہم ترین اور ناقابل فراموش استعارہ سمجھی جانے والی مشہور ’فردر‘ (Furthur) بس پورے ساٹھ سال کے طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر سان فرانسسکو واپس پہنچ گئی ہے۔ اس تاریخی اور رنگ برنگی بس کو، جسے کبھی مصنف کین کیسی اور ان کے ساتھیوں نے پورے ملک کے ایک انوکھے اور سائکیڈلک سفر کے لیے استعمال کیا تھا، اب ایک شاندار اور منفرد نمائش کا مرکزی حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس نمائش کا مقصد نامور میوزیکل بینڈ گریٹ فل ڈیڈ اور اس کے گرد گھومنے والے اچھوتے کلچر کی یادوں کو تازہ کرنا ہے۔
سنہ 1960 کی دہائی کے اوائل میں یہ بس امریکی کونڈو اور کاؤنٹر کلچر کی تحریک کی علامت بن گئی تھی۔ اس پر کیے گئے چمکدار اور گھماؤ دار رنگوں نے اس دور کے نوجوانوں کی سوچ اور تخیل کو گہرا متاثر کیا۔ کین کیسی اور ان کے ساتھیوں، جنہیں ’ میری پرینکسٹرز‘ کہا جاتا تھا، نے اس بس پر سوار ہو کر امریکہ کا جو تاریخی سفر کیا تھا، اس نے امریکی پاپ کلچر میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ اب اتنے برسوں بعد اس بس کی واپسی نے پرانے شائقین اور موسیقی سے محبت کرنے والوں میں ایک نئی لہر دوڑا دی ہے اور لوگ اسے دیکھنے کے لیے جوش و خروش سے آ رہے ہیں۔
نئی نمائش میں اس تاریخی بس کے علاوہ اس دور کی دیگر اہم یادگاریں، تصاویر، خطوط اور موسیقی سے جڑی اشیاء بھی رکھی گئی ہیں جو زائرین کو ساٹھ کی دہائی کے اس سنہری دور میں واپس لے جاتی ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ نئی نسل کو اس انوکھے ثقافتی ورثے سے روشناس کرانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس دور کے خیالات نے جدید امریکی معاشرے اور فن کو ایک نئی سمت دکھائی تھی۔ نمائش کے افتتاح کے موقع پر شائقین کی بڑی تعداد نے اس تاریخی بس کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور اپنے پسندیدہ بینڈ گریٹ فل ڈیڈ کے نغموں کو یاد کیا۔