World
موسمیاتی تبدیلی اور پینگوئنز: ماہرین کی طرف سے سخت وارننگ
دنیا بھر کے سرکردہ پینگوئن محققین نے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پینگوئن کے قدرتی مسکن کو لاحق سنگین خطرات سے خبردار کیا ہے۔ یہ انتباہ 12ویں بین الاقوامی پینگوئن کانفرنس کے دوران برڈ فلو کے سائے میں منعقدہ اجلاس میں جاری کیا گیا۔
دنیا بھر کے سرکردہ پینگوئن محققین اور سائنسدانوں نے پینگوئن کے قدرتی مسکن پر موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کے بارے میں ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اور برفانی تودوں کے پگھلنے کا عمل انڈوں اور چوزوں کی بقا کے لیے شدید خطرہ بن رہا ہے۔ ماہرین نے ان خیالات کا اظہار حالیہ دنوں میں منعقدہ بارہویں بین الاقوامی پینگوئن کانفرنس کے دوران کیا، جہاں عالمی سطح پر پینگوئنز کو درپیش خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس اہم اجلاس میں اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کس طرح حالیہ دنوں میں برڈ فلو کی وبا نے دنیا کے مختلف خطوں میں سمندری پرندوں بالخصوص پینگوئنز کی آبادی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وبائی امراض اور موسمیاتی تبدیلیوں کا یہ امتزاج پینگوئنز کی کچھ نازک اقسام کو مکمل طور پر ناپید ہونے کے دہانے پر لا کھڑا کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق خوراک کی کمی اور سمندروں کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ان پرندوں کی افزائشِ نسل کے معمولات کو یکسر تبدیل کر رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔
کانفرنس کے شرکاء نے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر تحفظ کے اقدامات نافذ کریں تاکہ ان پرندوں کے مسکن کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں سمندری علاقوں میں ماہی گیری کے قوانین کو مزید سخت کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پینگوئن کی کئی اہم اقسام ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے غائب ہو سکتی ہیں۔