Technology
ایلون مسک کا اے آئی ڈیپ فیکس قانون کیخلاف مقدمہ مسترد
ایک وفاقی جج نے مینیسوٹا کے اس قانون پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا ہے جو جنسی طور پر واضح اے آئی ڈیپ فیکس کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ اس فیصلے سے ٹیکنالوجی کے معروف رہنما ایلون مسک کی کمپنی کو بڑا دھچکا لگا ہے جبکہ محکمہ انصاف نے مسک کی حمایت کا اشارہ دیا تھا۔
امریکی ریاست مینیسوٹا میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے جانے والے جنسی طور پر واضح ڈیپ فیکس پر پابندی کے قانون کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست کو وفاقی عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس عدلیہ فیصلے کے بعد معروف ٹیکنالوجی ٹائیکون ایلون مسک کی کمپنی کو ایک اہم قانونی محاذ پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کے محکمہ انصاف نے بھی اس قانونی تنازع میں ایلون مسک کے موقف کی حمایت کا عندیہ دیا تھا، لیکن اس کے باوجود عدالت نے قانون کو معطل کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ قانون کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ڈیپ فیکس کی بڑھتی ہوئی لعنت اور خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی کو روکنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے بنائے جانے والے قوانین کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ایلون مسک اور ان کی قانونی ٹیم اس فیصلے کے خلاف مزید قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہی ہے تاکہ اے آئی ٹیکنالوجی کی آزادی اور اظہار رائے کے دائرہ کار کو محفوظ بنایا جا سکے، تاہم اس عدلیہ فیصلے نے فی الحال ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔