LIVE
Loading Breaking News...

جنریشن زی اور مینوئل ڈرائیونگ کی مہارت کا فقدان

News Image
حالیہ تحقیقی رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ نئی نسل یعنی جنریشن زی روایتی مینوئل کاریں چلانے کی صلاحیت سے تیزی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ صرف اٹھارہ فیصد امریکیوں کو مینوئل گئیر والی گاڑیاں چلانا آتی ہیں جبکہ نوجوانوں میں یہ تناسب مزید کم ہے۔
آج کے دور میں کار ڈرائیونگ کے انداز میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں اور آٹومیٹک گاڑیوں کی مقبولیت نے روایتی مینوئل گاڑیوں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی نسل یعنی جنریشن زی اس بنیادی ڈرائیونگ مہارت سے تیزی سے محروم ہو رہی ہے جو ماضی میں ہر ڈرائیور کے لیے لازمی سمجھی جاتی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق اب صرف اٹھارہ فیصد امریکی ایسے ہیں جو اسٹک شفٹ یا مینوئل گئیر والی گاڑی چلانا جانتے ہیں، اور نوجوانوں میں یہ شرح مزید تشویشناک حد تک کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہارت وقت کے ساتھ ساتھ اب ایک کھوتے ہوئے فن کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے کیونکہ جدید آٹومیٹک گاڑیاں مارکیٹ پر چھائی ہوئی ہیں۔ اس صورتحال نے آٹوموبائل انڈسٹری اور ڈرائیونگ کے ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا آج کے نوجوان گاڑی چلانے کے اصل تجربے سے محروم ہو رہے ہیں؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ مینوئل گئیر والی گاڑی چلانا زیادہ ذہنی صلاحیت اور توجہ کا متقاضی ہوتا ہے کیونکہ ڈرائیور کو کلچ اور گئیر کا توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس آٹومیٹک گاڑیاں نہ صرف چلانے میں انتہائی آسان ہیں بلکہ ان کے لیے بہت کم ذہنی اور جسمانی محنت درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل اب اس روایتی مہارت کو سیکھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتی۔ سڑکوں پر بڑھتی ہوئی ٹریفک اور آٹومیٹک گاڑیوں کی دستیابی نے اس رجحان کو مزید فروغ دیا ہے، جس کی وجہ سے آنے والے وقتوں میں مینوئل ڈرائیونگ صرف شوق یا مخصوص حالات تک محدود ہو کر رہ جانے کا خدشہ ہے۔