LIVE
Loading Breaking News...

مینٹل لوڈ کیا ہے اور گھریلو ذمہ داریاں کیسے بانٹیں؟

News Image
گھریلو امور کی منصوبہ بندی اور یاد رکھنے کی ذمہ داری زیادہ تر خواتین یا ماؤں پر عائد ہوتی ہے جو کہ ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ اس بوجھ کو کم کرنے اور جوڑوں کے درمیان کام کی مساوی تقسیم کے لیے چند اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
معاشرے میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ گھر چلانے، بچوں کی دیکھ بھال کرنے، اور روزمرہ کے چھوٹے بڑے کاموں کی منصوبہ بندی کرنے کی اصل ذمہ داری خواتین یا ماؤں پر پڑتی ہے۔ اس غیر مرئی ذہنی بوجھ کو 'مینٹل لوڈ' کہا جاتا ہے، جس میں صرف کام کرنا شامل نہیں بلکہ کاموں کو یاد رکھنا، ان کا وقت طے کرنا اور ان کے نتائج کی فکر کرنا بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسلسل ذہنی مشقت خواتین کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور انہیں تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ شراکت دار یا جوڑے اس پوشیدہ بوجھ کو سمجھیں اور اسے باہم تقسیم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ مینٹل لوڈ کو کم کرنے کا سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ گھریلو ذمہ داریوں کو کھل کر زیر بحث لایا جائے۔ اکثر مرد حضرات گھر کے ان پوشیدہ کاموں سے ناواقف ہوتے ہیں کیونکہ وہ صرف وہی کام کرتے ہیں جو انہیں بتائے جاتے ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ روزمرہ کے ان تمام کاموں، فہرستوں اور پلاننگ کو اپنے ساتھی کے ساتھ شیئر کریں تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ گھر چلانے کے پیچھے کتنی ذہنی محنت صرف ہو رہی ہے۔ اس بات چیت سے نہ صرف غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں بلکہ ذمہ داریوں کا ایک منصفانہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ کاموں کی باقاعدہ تقسیم اور ان کی مستقل ذمہ داری سونپنا ہے۔ مثال کے طور پر، بچوں کے اسکول کے انتظامات یا رات کے کھانے کی منصوبہ بندی کسی ایک فرد کی مستقل ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ہفتہ وار بنیادوں پر بدلا جا سکتا ہے۔ جب ایک شخص کسی خاص کام کی پوری ذمہ داری خود سنبھالتا ہے، تو دوسرے کا مینٹل لوڈ خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح دونوں شراکت دار گھر کے انتظام میں برابر کے شریک محسوس کرتے ہیں اور رشتے میں بھی تناؤ کم ہوتا ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ ہر کام کو سو فیصد کامل طریقے سے کرنا لازمی نہیں۔ گھریلو ماحول کو پرسکون رکھنے اور مینٹل لوڈ کو ہلکا کرنے کے لیے باہمی تعاون، سمجھداری اور لچک کا رویہ اپنانا سب سے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ میاں بیوی جب مل کر ان امور کو حل کرتے ہیں تو نہ صرف گھر کا نظام بہتر چلتا ہے بلکہ ان کا باہمی رشتہ بھی زیادہ مضبوط اور خوشگوار ہو جاتا ہے۔