LIVE
Loading Breaking News...

مصر میں ٹی وی میزبان کو منشیات کے کیس میں سزائے موت

News Image
مصر کی ایک عدالت نے مقبول ٹی وی پروگرام کی میزبان سمیت گیارہ افراد کو منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔ سزائے موت پانے والی معروف میزبان سارہ خلیفہ اپنے کرائم شو 'مشن امپاسیبل' کی وجہ سے جانی جاتی تھیں۔
قاہرہ: مصر کی ایک عدالت نے ہائی پروفائل منشیات کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے ایک معروف ٹی وی میزبان سمیت گیارہ ملزمان کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ مصری عدالتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جاری سخت کارروائیوں کا حصہ ہے، جس نے پورے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ عدالت نے تمام شواہد اور استغاثہ کے دلائل کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد یہ سخت فیصلہ سنایا ہے۔ سزائے موت پانے والی ملزمہ کی شناخت سارہ خلیفہ کے طور پر ہوئی ہے، جو مصر کی میڈیا انڈسٹری میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ وہ اپنے مقبول ٹی وی پروگرام 'مشن امپاسیبل' (Mission Impossible) کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور تھیں، جس میں وہ عموماً جرائم کے مسائل اور معاشرتی ناانصافیوں کو اجاگر کرتی تھیں۔ اس شو کی وجہ سے انہیں ناظرین میں کافی پذیرائی حاصل تھی، تاہم اب خود ان کا نام سنگین نوعیت کے جرائم میں سامنے آنے کے بعد عوام اور مداحوں میں شدید حیرت اور صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق سارہ خلیفہ اور دیگر دس افراد کو منشیات کی بین الاقوامی تجارت، غیر قانونی ترسیل اور مجرمانہ نیٹ ورک چلانے کے الزامات کا سامنا تھا۔ تحقیقاتی اداروں نے طویل عرصے تک اس گروہ کی نگرانی کی تھی اور مصدقہ شواہد اکٹھے کرنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے ملزمان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت پیش کیے، جن کی بنیاد پر جج نے قانون کے مطابق سزائے موت کا حتمی فیصلہ صادر کیا۔ اس فیصلے کے بعد مصر کے قانونی اور صحافتی حلقوں میں اس پر شدید بحث شروع ہو چکی ہے کہ کس طرح ایک نامور میڈیا پرسنلٹی مبینہ طور پر اس قسم کے بھیانک جرائم میں ملوث ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزمان کے پاس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا حق موجود ہے، اور آنے والے دنوں میں اس مقدمے کی کارروائی مزید دلچسپ موڑ اختیار کر سکتی ہے۔ حکام کا عزم ہے کہ ملک میں منشیات کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے قانون کا نفاذ بلا امتیاز جاری رہے گا۔