LIVE
Loading Breaking News...

ایسٹ্রোজেন پیچز کی سپلائی میں قلت، وفاقی اداروں کا اقدام

News Image
وفاقی نگران ادارے ملک میں ایسٹروجن پیچز کی قلت کے پیش نظر تمام مینوفیکچررز کے ساتھ مل کر سپلائی بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طبی ماہرین اور اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اس صورتحال پر باضابطہ قلت کا اعلان کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
وفاقی ریگولیٹرز نے کہا ہے کہ وہ ایسٹراڈیول ٹرانس ڈرمل پیچز بنانے والے تمام چھ مینوفیکچررز کے ساتھ مل کر اس کی سپلائی بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ اقدام خواتین کی جانب سے ماہ طویل رپورٹس کے بعد اٹھایا گیا ہے جنہیں ادویات کے نسخے پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور وہ باآسانی مطلوبہ دوا حاصل نہیں کر پا رہی تھیں۔ اس صورتحال نے ملک بھر کے طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ڈاکٹرز اور قانون ساز اب اس معاملے پر کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس سنگین ہوتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے باضابطہ طور پر دوائی کی قلت کا اعلان کیا جائے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسٹروجن پیچز خواتین کی صحت کے بعض مخصوص علاج اور ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی کے لیے انتہائی ضروری ہیں اور بروقت ادویات نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں کو شدید ذہنی اور جسمانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون سازوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ سپلائی چین کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ دوسری طرف، ادویات ساز اداروں اور متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے اور پیداوار میں اضافے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سخت اقدامات متوقع ہیں تاکہ مریضوں کو درپیش اس بحران کا جلد از جلد خاتمہ کیا جا سکے اور دواؤں کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔